اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے وزير خارجہ وليد معلم نے اپنے بيان ميں کہا کہ ايران اور شام کي دوستي و تعاون بہت ہي گہرا ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کے مقابلے ميں شامي حکومت کي جنگ ميں ايران کي طرف سے دمشق حکومت کے لئے بھرپور حمايت کو ہم قدر کي نگاہ سے ديکھتے ہيں ۔ وليد المعلم نے اس بات پر زور ديتے ہوئے شام ايران اور روس کےدرميان کسي بھي طرح کا کوئي اختلاف نہيں ہے۔ امريکا کي سرپرستي ميں داعش کے خلاف بننےوالے نام نہاد اتحاد کے سلسلے ميں ايران اور روس کےموقف پر خوشي کا اظہارکيا ۔
شامي وزيرخارجہ نے کہا کہ اگر ترکي نے کسي بھي طرح سے شام کي سرزمين ميں مداخلت کي کوشش کي تو ہم اس کا جواب ديں گے۔شامي وزيرخارجہ نے کہا کہ کوباني ميں داعش کے لئے ترکي کي حمايت نے ہر علاقے منجملہ عراق ميں کردوں کو ترکي کے خلاف متحد کرديا ہے انہوں نے کہا کي شامي کردوں نے اپني استقامت کے ذريعے ترکي کے صدراردوغان کي پاليسيوں کو ناکام بناديا ہے ۔ شام کے وزيرخارجہ نے دہشت گردوں کو مسلح کرنے کے تعلق سے سعودي عرب کي بھي پاليسيوں کو مہم پسندي قرارديا اور کہا کہ سرانجام ان اقدامات کے نتائج خود سعودي عرب پر مرتب ہوں گے ۔ شامي وزيرخارجہ شام کے ساتھ مصالحت کے لئے قطر کي کوششوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اگر قطر صحيح معنوں ميں شام کے ساتھ آشتي کرنا چاہتا ہے تو اس کو شام ميں سرگرم دہشت گردوں کے لئے اپني مالي حمايت بند کرني ہوگي ۔
.......
/169